تاثرات

دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ، بہار، شمالی ہند کا ایک عظیم ادارہ ہے جس کی اہمیت نیپال کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے بڑھ گئی ہے۔ اس ادارہ سے فارغ ہونے والے طلبہ اس کی تاسیس سے ہی دعوت الی اللہ اور عقائد صحیحہ کی تعلیم اور ترویج میں لگے ہوئے ہیں۔ دار الافتاء ریاض کے وفود نے بارہا اس ادارہ کی زیارت کی ہے اور اس کی کد و کاوش کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے شمالی ہند میں اس ادارہ کی اہمیت بھی واضح کی ہے جہاں منہج سلف صالح کے مطابق دعوت دی جاتی ہے۔ اس کے ناظم ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی کی شخصیت ہمارے نزدیک معروف ہے۔

        اس لیے میں اہل خیر حضرات سے امید کرتا ہوں کہ دار العلوم کے منصوبہ جات کی تکمیل کے لیے دل کھول کر تعاون کریں گے۔ اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کی نیکیوں کو دو بالا کرے اور آپ کو بہتر اجر سے نوازے۔ آمین!

رئیس عام

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

رئیس ادارة البحوث العلمیة والافتاء  والدعوة و الارشاد

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رئیس ادارة البحوث العلمیة والافتاء والدعوة و الارشاد

آج مجھے مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، اور اس مدرسے کی خوبصورتی، صفائی، حسن انتظام ہر چیز کو دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی۔ اس سے پہلے میری نگاہ میں جتنے عربی مدارس گزرے ہیں ان میں اس مدرسہ کو ایک ممتاز حیثیت کا مالک پایا۔ اللہ تعالی اسے اور زیادہ ترقی دے اور صوری  و معنوی ہر حیثیت سے یہ مرتبہ کمال کو پہنچے۔

خاکسار

ابو الاعلی

۲۳؍ اکتوبر ۴۳ء

(سید ابو الاعلی المودودی (مؤسس الجماعۃ الاسلامیۃ

آج بتاریخ ۷/ا/۱۹۹۲ کو اللہ تعالی کی مہربانی سے دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ صوبہ بہار کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور یہاں کے طلبہ، اساتذہ اور ذمہ داروں خصوصاً ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی صاحب سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور ان کو ایک بہترین اسوہ پایا۔

        اس ادارہ کی زیارت اور ا س ذمہ داروں سے ملاقات کی خواہش میرے دل میں تھی۔ اس علاقہ میں اس ادارہ کے ذریعہ جو دینی خدمت انجام دی جارہی ہے وہ قابل ستائش ہے اور میں نے اسے اسلامی قلعوں میں سے ایک قلعہ محسوس کیا۔ اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اس جامعہ کو مزید ترقی سے نوازے او راس کے ذمہ داروں کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی مزید توفیق بخشے۔ آمین!

علی بن سالم بن جاسم

امارات عربیه متحدہ، دبئی

علی بن سالم بن جاسم امارات عربیه متحدہ، دبئی

آج مدرسہ سلفیہ میں آنے کا اتفاق ہوا۔ مدرسہ کے حالات سن کر اور کچھ دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔ کام کی رفتار خدا کا شکر ہے، بہت اچھی ہے۔ خدا ترقی دے اور اراکین کی سعی کو مشکور فرمائے۔

ڈاکٹر ذاکر حسین

۶؍ مئی ۱۹۶۴؁ء

ڈاکٹر ذاکر حسین (سابق صدر جمہوریہ ہند)

مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آج مجھے جامعہ سلفیہ میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ میں یہاں کے ٹیچرز اور طلبا کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کے اعلی تعلیمی معیار پر جو انہوں نے حاصل کیا ہے، مجھے خوشی ہے کہ اس درسگاہ کے طالب علم یہاں سے فارغ ہو کر جدید تعلیم کی درسگاہوں  میں بھی جاتے ہیں جہاں انہوں نے جدید علوم میں درخشاں کامیابی حاصل کی۔

            میں سلفیہ انتظامیہ کمیٹی کو مبار ک باد دیتا ہوں کہ نہ صرف وہ اپنے اداروں کو کامیابی سے چلا رہے ہیں بلکہ وہ نئے ادارے بھی کھول رہے اور اس سلسلے میں انہوں نے طبیہ کالج قائم کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کالج بھی درخشاں کامیابی حاصل کرے گا۔

اخلاق الرحمن قدوائی

۲۵؍ فروری ۸۶ء

اخلاق الرحمان قدوائی (سابق گورنر بہار)

آج ۲۶؍ مارچ ۱۹۸۴ کو محترمی جناب ڈاکٹر سید عبد الحفیظ صاحب سلفی ناظم دار العلوم احمدیہ سلفیہ کی پر خلوص دعوت بلکہ حکم پر حاضری، اسی موقع پر منعقد جلسہ مذاکرہ علمیہ میں شرکت اور فارغ ہونے والے طلبہ کی دستار بندی کا شرف حاصل ہوا۔ یہ دار العلوم میرے لیے نیا نہیں۔ اس سے پہلے بھی دو بار حاضر ہونے کا موقع مل چکا ہے۔ یہاں کے سرگرم اور بلند حوصلہ ناظم ڈاکٹر سید عبد الحفیظ کےساتھ کئی دینی و ملی تنظیموں اور اداروں میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہے۔ ان سے ملاقاتوں میں دار العلوم کی تعلیمی و دعوتی سرگرمیوں سے واقفیت کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے دار العلوم پر ہر بار صوری و معنوی اور ظاہری و حقیقی ترقی محسوس ہوتی ہے۔ اس دار العلوم کو صوبہ بہار اور خاص طور سے شمالی بہار میں اہمیت حاصل ہے۔ اس مدرسہ کی بڑی اچھی تاریخ رہی ہے اور یہ مدرسہ خود ایک تاریخ اور علمی و اصلاحی تحریک سے وابستہ ہے۔ سید احمد شہیدؒ کی شہادت کے بعد ان کی ہمہ گیر اصلاحی و انقلابی تحریک کی ذمہ داریاں خاندان صادق پور نے سنبھالیں اور حق بجانب ادا کیا۔ یہ دار العلوم اس تحریک سے بڑی گہری وابستگی رکھتا ہے۔ مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادیؒ کی احیائے سنت کی تحریک نے علاقہ کو بدل دیا تھا۔ وہی اس مدرسہ کے بانی ہیں۔ مولانا شمس الحق دیانوی کی خدمت حدیث اور تدریس سے بھی اس مدرسہ کو تعلق ہے۔ یہ دار العلوم سرچشموں سے فیض حاصل کرتا ہے اور ان کی روایتوں کا محافظ  و امین ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دار العلوم اور اس کے فارغین ان روایتوں اور ان کی امانت کی حفاظت کریں گے اور اسی جذبہ اور روح کے ساتھ اسلام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ اس دار العلوم کو آفات و حوادث سے محفوظ رکھے۔ اس کے ذمہ داروں کا حوصلہ اور بلند کرے اور دار العلوم کو بیش از بیش ترقی عطا فرمائے۔

ابو الحسن علی حسنی ندوی

بقلم نور عظیم ندوی

۲۶؍ مارچ ۱۹۸۴؁ء

مولانا ابو الحسن علی ندویؒ بقلم نور عظیم ندوی

یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مذاکرہ علمیہ کے موقعہ سے دار العلوم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا جس کا موضوع ‘‘توحید اور ہماری زندگی پر اس کے اثرات’’ تھا۔ گرچہ اس سے قبل بھی با رہا زیارت کا موقع ملا ہے۔

            اس میں کوئی شک نہیں کہ اس علاقہ میں یہ ایک دینی قلعہ ہے۔ تعلیم دعوت الی اللہ اور صحیح عقیدہ کی ترویج و اشاعت اور جدید طبقہ کے درمیان دینی روح بیدار کرنے میں اس کی اہم خدمت رہی ہے اور یہ ادارہ اسلام اور مسلمانوں کی مختلف میدان میں خدمت کر رہا ہے اور اس کے ذمہ داران خصوصاً ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی جو اس ادارہ کے سکریٹری ہیں۔ ثقہ اور امین ہیں۔ اس ادارہ کے کچھ منصوبے ہیں جس کی تکمیل ضروری ہے۔

            اس لئے میں اصحاب خیر اور ثروت سے اس ادارہ کی مدد کی درخواست کرتا ہوں تاکہ اس کے اعلی منصوبوں کی تکمیل ہو اور اللہ اس ادارہ کو مزید ترقی سے نوازے۔ آمین!

 

آپ کا بھائی

عبد الرؤف رحمانی

امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نیپال

۱۰؍ ۱۰؍ ۱۹۹۲

مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری - امیر at مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال

حامداً و مصلّیاً و مسلماً ۔ اما بعد دار العلوم احمدیہ سلفیہ قدیم اور کار گذار ادارہ ہے اور جس نے جناب مولینا ڈاکٹر عبد الحفیظ صاحب سلفی زید مجدہم کی سربراہی میں مختلف جہات سے ترقی کی ہے۔ حق تعالی کی بار گاہ میں دعا ہے کہ وہ اس زندہ اور متحرک ادارہ کو  مزید ترقیات سے نوازے اور موجودہ دور میں مسلمانوں کے لیے مفید سے مفید تر ثابت فرمائے۔ آمین!

منت اللہ رحمانی

امیر شریعت بہار و اڑیسہ

۲۶؍ مارچ ۸۴ء

مولانا منت اللہ رحمانی (امیر شریعت بہار و اڑیسہ)

نحمدہ ونصلی۔ آج بتاریخ ۷؍ اپریل ۵۲ء دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں حاضری کا شرف میسر ہوا اور دار العلوم کی وسیع اور ستھری عمارت میں ایک مختصر سے اجتماع سے میں شرکت کی نوبت بھی آئی۔ ذمہ داران دار العلوم کے وسیع اخلاق اور دار العلوم کے منتظم  کے کاموں نے  ہمارے دلوں پر گہرا اثر ڈالا۔ طلبہ کی تعداد تقریبا ایک سو ہے اور جو کتاب و سنت کی تعلیم و ترویج میں مصروف ہیں۔ فی زمانہ ضرورت ہے کہ تعلیمی اور اخلاقی اداروں کو زیادہ وسیع کیا جائے اور انہیں مسلمانوں کے ارتباط باہمی کا ذریعہ بنایا جائے اور بلا تفریق مسلک و مشرب ‘‘المؤمنون کجسد واحد’’ کا عملی ثبوت پیش کیا جائے۔ الحمد للہ کہ دار العلوم احمدیہ اپنی تعلیم وتربیت کے مقاصد کی تکمیل کے ساتھ ایک عظیم ترین مقصد کے بروئے کار لانے میں بھی ساعی نظر آرہی ہے جو تمام علمی اداروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ دعاء ہے کہ حق تعالی اس ادارے کو اس کے اعتدال کے ساتھ اسے ترقی عطا فرمائے۔ دار العلوم کے مجموعی احوال سے جو خوشی ہوئی اس کے اظہار کے لیے چند سطریں عرض کی گئی ہیں۔ و باللہ التوفیق

محمد قاری طیب

مہتمم دار العلوم دیوبند

۷؍ اپریل ۱۹۵۲ء

قاری طیب صاحب (مہتمم دار العلوم دیوبند)