(قاری طیب صاحب (مہتمم دار العلوم دیوبند

نحمدہ ونصلی۔ آج بتاریخ ۷؍ اپریل ۵۲ء دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں حاضری کا شرف میسر ہوا اور دار العلوم کی وسیع اور ستھری عمارت میں ایک مختصر سے اجتماع سے میں شرکت کی نوبت بھی آئی۔ ذمہ داران دار العلوم کے وسیع اخلاق اور دار العلوم کے منتظم کے کاموں نے ہمارے دلوں پر گہرا اثر ڈالا۔ طلبہ کی تعداد تقریبا ایک سو ہے اور جو کتاب و سنت کی تعلیم و ترویج میں مصروف ہیں۔ فی زمانہ ضرورت ہے کہ تعلیمی اور اخلاقی اداروں کو زیادہ وسیع کیا جائے اور انہیں مسلمانوں کے ارتباط باہمی کا ذریعہ بنایا جائے اور بلا تفریق مسلک و مشرب ‘‘المؤمنون کجسد واحد’’ کا عملی ثبوت پیش کیا جائے۔ الحمد للہ کہ دار العلوم احمدیہ اپنی تعلیم وتربیت کے مقاصد کی تکمیل کے ساتھ ایک عظیم ترین مقصد کے بروئے کار لانے میں بھی ساعی نظر آرہی ہے جو تمام علمی اداروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ دعاء ہے کہ حق تعالی اس ادارے کو اس کے اعتدال کے ساتھ اسے ترقی عطا فرمائے۔ دار العلوم کے مجموعی احوال سے جو خوشی ہوئی اس کے اظہار کے لیے چند سطریں عرض کی گئی ہیں۔ و باللہ التوفیق
محمد قاری طیب
مہتمم دار العلوم دیوبند
۷؍ اپریل ۱۹۵۲ء
قاری طیب صاحب (مہتمم دار العلوم دیوبند)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *