مولانا ابو الحسن علی ندویؒ

آج ۲۶؍ مارچ ۱۹۸۴ کو محترمی جناب ڈاکٹر سید عبد الحفیظ صاحب سلفی ناظم دار العلوم احمدیہ سلفیہ کی پر خلوص دعوت بلکہ حکم پر حاضری، اسی موقع پر منعقد جلسہ مذاکرہ علمیہ میں شرکت اور فارغ ہونے والے طلبہ کی دستار بندی کا شرف حاصل ہوا۔ یہ دار العلوم میرے لیے نیا نہیں۔ اس سے پہلے بھی دو بار حاضر ہونے کا موقع مل چکا ہے۔ یہاں کے سرگرم اور بلند حوصلہ ناظم ڈاکٹر سید عبد الحفیظ کےساتھ کئی دینی و ملی تنظیموں اور اداروں میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہے۔ ان سے ملاقاتوں میں دار العلوم کی تعلیمی و دعوتی سرگرمیوں سے واقفیت کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے دار العلوم پر ہر بار صوری و معنوی اور ظاہری و حقیقی ترقی محسوس ہوتی ہے۔ اس دار العلوم کو صوبہ بہار اور خاص طور سے شمالی بہار میں اہمیت حاصل ہے۔ اس مدرسہ کی بڑی اچھی تاریخ رہی ہے اور یہ مدرسہ خود ایک تاریخ اور علمی و اصلاحی تحریک سے وابستہ ہے۔ سید احمد شہیدؒ کی شہادت کے بعد ان کی ہمہ گیر اصلاحی و انقلابی تحریک کی ذمہ داریاں خاندان صادق پور نے سنبھالیں اور حق بجانب ادا کیا۔ یہ دار العلوم اس تحریک سے بڑی گہری وابستگی رکھتا ہے۔ مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادیؒ کی احیائے سنت کی تحریک نے علاقہ کو بدل دیا تھا۔ وہی اس مدرسہ کے بانی ہیں۔ مولانا شمس الحق دیانوی کی خدمت حدیث اور تدریس سے بھی اس مدرسہ کو تعلق ہے۔ یہ دار العلوم سرچشموں سے فیض حاصل کرتا ہے اور ان کی روایتوں کا محافظ و امین ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دار العلوم اور اس کے فارغین ان روایتوں اور ان کی امانت کی حفاظت کریں گے اور اسی جذبہ اور روح کے ساتھ اسلام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ اس دار العلوم کو آفات و حوادث سے محفوظ رکھے۔ اس کے ذمہ داروں کا حوصلہ اور بلند کرے اور دار العلوم کو بیش از بیش ترقی عطا فرمائے۔
ابو الحسن علی حسنی ندوی
بقلم نور عظیم ندوی
۲۶؍ مارچ ۱۹۸۴؁ء

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *