ھمارے بارے میں

دار العلوم  احمدیہ سلفیہ، دربھنگہ

(مختصر تاریخ)

            دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ صوبہ بہار کا ایک عظیم سلفی تعلیمی و تنظیمی ادارہ ہے جس کی بنیاد ۱۹۱۸ءمطابق ۱۳۳۶؁ھ  میں ہندو پاک میں کتاب وسنت کے علم بردار اور جمعیت اہل حدیث ہند کے مؤسس وبانی مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادی کے ہاتھوں پڑی تاکہ ہندو  نیپال میں اسلام کی صحیح دعوت پیش کی جاسکے اور عام مسلم بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم سے مزین کرنے کے علاوہ غریب و نادار طلبہ کی تعلیم و تربیت کی جاسکے۔ اس ادارہ کی اہمیت اس لئے  بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نیپال کی سرحد سے متصل ہے ۔ یہاں سے سند فراغت کے حصول کے بعد بہت سے علما و دعاۃ، ہند و نیپال کے اندر سلف و صالحین کے طریقہ کے مطابق صحیح عقائد کی ترویج اور دعوت الی اللہ کے کام میں مشغول ہیں۔ دار العلوم کی زیارت اور اندرون و بیرون ملک کے مشاہیر علما و مشائخ نے کی ہے اور اس کے  سرگرمیوں اور کوششوں کا مشاہدہ کیا اور پسند فرمایا ہے۔

            مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادی کے انتقال کے بعد مختصر مدت کے لیے دار العلوم کی نظامت کی ذمہ داری بابو عبد اللہ کو سونپی گئی جو نو مسلم تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خود مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادی کی نگہ داشت میں ہوئی تھی اور وہ مولانا کو اپنے بیٹے کی طرح عزیز تھے ۔ انہوں نے بھی اپنی نظامت کے عہد میں ہندوستان کے کئی مشہور علما کی خدمات دار العلوم کے لیے حاصل کی تھی۔

            بابو عبد اللہ کے بعد  ڈاکٹر سید فرید رحمہ اللہ نے اس ادارہ کی نظامت کی ذمہ داری سنبھالی جن کی تربیت مجاہدین آزادی  اور علمائے  صادق پور نے کی تھی۔ موصوف نے ادارہ کی ترقی کے لیے بے پناہ جد و جہد کی اور ان کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے ادارہ بام عروج کو پہنچا اور ہندو پاک کے ممتاز اداروں میں اس کا شمار ہونے لگا۔

            ڈاکٹر سید فرید رحمہ اللہ نے جب اس دار فانی سے کوچ کیا تو دار العلوم کی ذمہ داریوں کا بار گراں ان کے لائق فرزند ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی کے کندھوں پر آ پڑا جن کی تربیت اسی دار العلوم کے ماحول میں ہوئی۔ آپ نے حفظ قرآن سے فراغت کے بعد دار العلوم سے عالمیت کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور M.B.B.S. کی ڈگری حاصل کی۔ دار العلوم کی ترقی کے لیے موصوف نے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا۔ اپنی تمام تر مشغولیات کے باوجود دار العلوم کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دیں۔ اپنی پوری زندگی قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دی اور مسلمانوں کے دینی و اجتماعی مسائل کے حل میں مصروف ہوگئے۔ ایک عرصہ تک جمعیت اہل حدیث ہند کے صدر بھی رہے۔ ان کا انتقال ۸؍ جون ۱۹۹۹ میں ہوا۔  إنا للہ و إنا الیه راجعون۔

            ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد عوام نے ڈاکٹر سید عبد العزیز سلفی کو ناظم منتخب کیا جو اسی دار العلوم کے فیض یافتہ اور ساتھ ہی ایک کامیاب ڈاکٹر بھی ہیں۔ عوام کی نگاہِ انتخاب آپ پر اس لئے بھی پڑی کہ آپ اس سے قبل نائب ناظم کی حیثیت سے اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دیتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی مجلس عاملہ نے ڈاکٹر صاحب کے منجھلے صاحب زادہ ڈاکٹر سید عبد الحکیم کو سلفیہ یونانی میڈیکل کالج کا نائب ناظم اور چھوٹے صاحب زادہ ڈاکٹر عبد الحلیم کو دار العلوم کا نائب ناظم منتخب کیا۔ ڈاکٹر عبد الحلیم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے نائب امیر اور صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ ان کا انتقال ۸؍ اگست ۲۰۱۵ کو ہوگیا۔ إنا للہ و إنا الیه راجعون۔

            ا س میں کوئی شک نہیں کہ دار العلوم اپنے تاسیس کے زمانہ ہی سے عقیدہ اسلامیہ کی نشر و اشاعت اور مسلم بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت میں پیہم مصروف ہے۔ جہاں بچوں کو ابتدائی درجہ سے فضیلت تک تعلیم دی جاتی ہے اور ہر سال طلبہ کی ایک اچھی خاصی تعداد فراغت کے بعد قوم کی خدمت میں لگ جاتی ہے۔

            دار العلوم کا طریقہ تعلیم اور اس کی اسناد:

            دار العلوم کا طریقہ تعلیم اور اس کی سندیں بیرون ممالک کی یونیورسٹیوں سے بھی منظور شدہ ہیں جیسے جامعہ ملیہ اسلامیہ مدینہ منورہ، جامعہ ام القری مکہ مکرمہ، جامعہ الامام محمد بن سعود ریاض ، اسی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی ، جامعہ ہمدرد دہلی اور بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے بھی منظور شدہ ہے۔ دار العلوم سے فراغت کے بعد بہت سے طلبہ اعلی تعلیم کی غرض سے مذکورہ جامعات میں داخلہ لے لیتے ہیں اور فراغت کے بعد ملک اور بیرون ملک کے مختلف گوشوں میں تعلیم وتدریس اور دعوت الی اللہ کے فرائض انجام دیتے ہیں۔


 

دار العلوم کے شعبہ جات

معہد ابتدائی وثانوی:

 یہ معہد دار العلوم کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے جو سلفیہ اسکول کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی بنیاد پر ۱۹۶۵؁ء میں پڑی تاکہ دار العلوم کی جانب سے مقرر کیے گئے نصاب کے مطابق تعلیم دی جاسکے۔ عصری تعلیم کے اس ادارہ میں قرآن کی تعلیم اور ابتدائی عربی معلومات کے ساتھ دین اسلام کے اصول و مبادی سے متعارف کرانے کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

اب اسکول کو وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق مرکزی بورڈ برائے ثانوی تعلیم (سی بی ایس ای) سے میٹرک تک ملحق کیا گیا ہے اور انٹر میڈیٹ کے الحاق کی کارروائی بھی جاری ہے۔

 

کلیة البنات السلفیه:

بچیوں کی دینی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر اس کی بنیاد ۱۹۸۵ ؁ءمیں پڑی جہاں مسلم بچیوں کو عربی زبان اور علوم اسلامیہ جیسے تفسیر، حدیث، فقہ وغیرہ کی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی دی جاتی ہے اور گھریلو ذمہ داریوں سے متعلق مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔

 

تحفیظ القرآن الکریم:

 یہ بھی دار العلوم کا ایک اہم شعبہ ہے جس میں تجوید و قرأت کے ساتھ قران کی تعلیم دی جاتی ہے اور ہر سال حفاظ قرآن کی ایک معتد بہ تعداد فارغ ہوتی ہے۔

 

کلیة الطب السلفیه:

شہر دربھنگہ قدیم زمانہ سے ایک علمی گہوارہ رہا ہے۔ یہاں بہت سے کالج اور علمی مراکز پائے جاتے ہیں لیکن طب یونانی کی تعلیم کے لیے کوئی ادارہ نہ تھا۔ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ۱۹۸۱ میں اس کالج کی بنیاد ڈالی گئی جہاں طب یونانی کے ساتھ طب اسلامی قدیم اور جدید کی اعلی تعلیم دی جاتی ہے۔کالج کا الحاق بہار یونیورسٹی مظفر پور سے کرایا گیا ہے اور سی سی آئی ایم  (C.C.I.M.) سے بھی کالج کو منظوری حاصل ہے۔ اس کے  ماتحت ایک شفاخانہ بھی ہے جس کا نام مستشفیٰ فریدی (فریدیہ اسپتال) ہے۔ اس میں نادار اور غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے اور ہر طرح کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔

 

شعبهٔ دعوت و ارشاد:

لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے، مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو بحال کرنے، ان کے اندر دینی جذبہ بیدار کرنے اور بدعات کا قلع قمع کرنے کے لیے  یہ ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ جس کے تحت بہت سے داعی ہر جمعہ کو دیہات و شہر کی مسجدوں میں خطبہ دیتے ہیں اور اتوار کی شام مختلف مساجد میں وعظ و نصیحت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف اصلاحی کانفرنس اور دعوتی مجالس کے انعقاد کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

 

دار الافتاء:

 اس ادارہ کے تحت لوگوں کے مختلف دینی مسائل حل کیے جاتے ہیں۔ سوالوں کے جواب دینے کے لیے علما کی ایک جماعت ہے جو ان کے مسائل حل کرنے اور آپسی نزاع میں ان کے درمیان مصالحت کرانے میں کوشاں رہتی ہے۔

 

شعبه نشر واشاعت:

اس شعبہ کے تحت دار العلوم احمدیہ سلفیہ کا ترجمان پندرہ روزہ  مجله الھدی، دربھنگہ گزشتہ ۶۸ سالوں سے پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں دینی علمی  موضوعات کے ساتھ ملکی وملی مسائل پر اہم مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے مدیر اس وقت شکیل احمد سلفی ہیں۔ ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی سے لے کر شکیل احمد سلفی تک اس رسالے کی ادارت مشہور علما اور صحافی حضرات کرتے رہے ہیں۔ ہندوستانی مدارس اور اردو صحافت کے میدان میں اس رسالہ کی شاندار تاریخ رہی ہے۔ اس کے کئی خصوصی شمارے تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ الہدی سے قبل ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی کی ادارت میں کچھ عرصہ تک مجله سلفیه کی اشاعت بھی ہوتی رہی تھی جس کے بند ہونے کے بعد الہدی کی اشاعت عمل میں آئی۔ مجلہ سلفیہ بھی مدارس سے شائع ہونے والے رسالوں  اور اردو زبان کی صحافت میں اہم مقام رکھتا ہے۔

 

مرکز اللغة العربیه:

طلبہ کو جدید اور پیشہ ورانہ عربی زبان سے واقف کرانے کے لیے حکومت ہند کے خود مختار ادارہ  قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے تحت چلائے جا رہے دو سالہ کورس الدبلوم فی اللغة العربیة الوظیفیة (پیشہ ورانہ عربی زبان میں ڈپلومہ) کا سینٹر قائم کیا گیا ہے تاکہ طلبہ جدید عربی زبان  اور لب و لہجہ سے بھی بخوبی واقف ہوسکیں۔

 

کمپیوٹر سینٹر:

جدید ٹیکنالوجی نے دعوت اور دینی علوم  و تحقیقات کے میدان میں بھی اہم دروازے کھولے ہیں۔ آج کمپیوٹر کی مدد سے تعلیم کے حصول میں بڑی آسانی پیدا ہوئی ہے اور تحقیقات کا راستہ بھی آسان اور ہموار ہواہے۔ اسی طرح کمپیوٹر اور ویب سائٹ وغیرہ کی مدد سے دعوت کے کاز کو بھی وسعت ، تنوع اورسہولت حاصل ہوئی جس کے ذریعہ زیادہ لوگوں تک دعوت کو پہنچانا آسان ہوگیا۔ اس لیے دار العلوم کے طلبہ کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی کے ذریعہ چلایا  جارہا ایک سالہ کمپیوٹر کورس بھی کرایا جاتا ہے۔ دار العلوم کے تحت اس کا منظور شدہ سینٹر قائم ہے۔ اس کورس سے کے ذریعہ  اوسط اور اس سے کم ذہانت اور لیاقت کے طلبہ کے لیے روزگار کا دروازہ بھی کھلتا ہے۔

 

الیکٹرانک سینٹر:

جو طلبہ اوسط سے کم یا ادنی ذہانت اور لیاقت رکھتے ہیں  اور فراغت کے بعد  دینی  تعلیم اور دعوتی میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں ا ن کے لیے دیگر میدانوں میں روز گار کا دروازہ کھولنے کے مقصد سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی کے تحت چلائے جار ہے الکٹرانک کورس کا (ڈریم) سینٹر قائم کیا  گیا ہے تاکہ وہ فراغت کے بعد والدین اور ملت پر بار بن کر نہ رہیں بلکہ مناسب روز گار سے وابستہ ہو کر خود کفیل زندگی گزار سکیں۔

 

 

تاثرات

(دار العلوم کا معائنہ کرنے والے علما  و مشائخ  و تنظیم اسلامی کے سربراہوں کے تاثرات)

            دار العلوم احمدیہ سلفیہ کے قیام سے ہی ملک اور بیرون ملک کی مشہور معروف شخصیتوں نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے دار العلوم کو اعزاز بخشا ہے۔ دار العلوم کا بھی یہ طریقہ رہا ہے کہ  موقع موقع سے ملک و بیرون ملک کے علما اور دانشوران کے فکر و خیال سے طلبہ و اساتذہ کو مستفید ہونے کا موقع فراہم کراتا آیا ہے۔ تاکہ ان کی تعلیمی لیاقت میں اضافہ ہو اور ان کے اندر بلندیٔ افکار اور وسعت نظری پیدا ہو۔ ایسی شخصیتوں نے دار العلوم کے تعلیمی معیار اور حسن انتظام کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے اور اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایسی شخصیتوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے ملک و بیرون ملک کے چند مشاہیر کے تاثرات یہاں پیش کیے جار ہے ہیں۔

شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ، سعودی عربیہ

دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ، بہار، شمالی ہند کا ایک عظیم ادارہ ہے جس کی اہمیت نیپال کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے بڑھ گئی ہے۔ اس ادارہ سے فارغ ہونے والے طلبہ اس کی تاسیس سے ہی دعوت الی اللہ اور عقائد صحیحہ کی تعلیم اور ترویج میں لگے ہوئے ہیں۔ دار الافتاء ریاض کے وفود نے بارہا اس ادارہ کی زیارت کی ہے اور اس کی کد و کاوش کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے شمالی ہند میں اس ادارہ کی اہمیت بھی واضح کی ہے جہاں منہج سلف صالح کے مطابق دعوت دی جاتی ہے۔ اس کے ناظم ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی کی شخصیت ہمارے نزدیک معروف ہے۔

            اس لیے میں اہل خیر حضرات سے امید کرتا ہوں کہ دار العلوم کے منصوبہ جات کی تکمیل کے لیے دل کھول کر تعاون کریں گے۔ اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کی نیکیوں کو دو بالا کرے اور آپ کو بہتر اجر سے نوازے۔ آمین!

رئیس عام

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

رئیس ادارة البحوث العلمیة والافتاء  والدعوة و الارشاد

شیخ علی بن سالم بن جاسم، دبئی

آج بتاریخ ۷؍ ا؍ ۱۹۹۲ کو اللہ تعالی کی مہربانی سے دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ صوبہ بہار کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور یہاں کے طلبہ، اساتذہ اور ذمہ داروں خصوصاً ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی صاحب سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور ان کو ایک بہترین اسوہ پایا۔

            اس ادارہ کی زیارت اور ا س ذمہ داروں سے ملاقات کی خواہش میرے دل میں تھی۔ اس علاقہ میں اس ادارہ کے ذریعہ جو دینی خدمت انجام دی جارہی ہے وہ قابل ستائش ہے اور میں نے اسے اسلامی قلعوں میں سے ایک قلعہ محسوس کیا۔ اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اس جامعہ کو مزید ترقی سے نوازے او راس کے ذمہ داروں کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی مزید توفیق بخشے۔ آمین!

علی بن سالم بن جاسم

امارات عربیه متحدہ، دبئی

 

 مولانا ابو الحسن علی ندویؒ

آج ۲۶؍ مارچ ۱۹۸۴ کو محترمی جناب ڈاکٹر سید عبد الحفیظ صاحب سلفی ناظم دار العلوم احمدیہ سلفیہ کی پر خلوص دعوت بلکہ حکم پر حاضری، اسی موقع پر منعقد جلسہ مذاکرہ علمیہ میں شرکت اور فارغ ہونے والے طلبہ کی دستار بندی کا شرف حاصل ہوا۔ یہ دار العلوم میرے لیے نیا نہیں۔ اس سے پہلے بھی دو بار حاضر ہونے کا موقع مل چکا ہے۔ یہاں کے سرگرم اور بلند حوصلہ ناظم ڈاکٹر سید عبد الحفیظ کےساتھ کئی دینی و ملی تنظیموں اور اداروں میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہے۔ ان سے ملاقاتوں میں دار العلوم کی تعلیمی و دعوتی سرگرمیوں سے واقفیت کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے دار العلوم پر ہر بار صوری و معنوی اور ظاہری و حقیقی ترقی محسوس ہوتی ہے۔ اس دار العلوم کو صوبہ بہار اور خاص طور سے شمالی بہار میں اہمیت حاصل ہے۔ اس مدرسہ کی بڑی اچھی تاریخ رہی ہے اور یہ مدرسہ خود ایک تاریخ اور علمی و اصلاحی تحریک سے وابستہ ہے۔ سید احمد شہیدؒ کی شہادت کے بعد ان کی ہمہ گیر اصلاحی و انقلابی تحریک کی ذمہ داریاں خاندان صادق پور نے سنبھالیں اور حق بجانب ادا کیا۔ یہ دار العلوم اس تحریک سے بڑی گہری وابستگی رکھتا ہے۔ مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادیؒ کی احیائے سنت کی تحریک نے علاقہ کو بدل دیا تھا۔ وہی اس مدرسہ کے بانی ہیں۔ مولانا شمس الحق دیانوی کی خدمت حدیث اور تدریس سے بھی اس مدرسہ کو تعلق ہے۔ یہ دار العلوم سرچشموں سے فیض حاصل کرتا ہے اور ان کی روایتوں کا محافظ  و امین ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دار العلوم اور اس کے فارغین ان روایتوں اور ان کی امانت کی حفاظت کریں گے اور اسی جذبہ اور روح کے ساتھ اسلام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ اس دار العلوم کو آفات و حوادث سے محفوظ رکھے۔ اس کے ذمہ داروں کا حوصلہ اور بلند کرے اور دار العلوم کو بیش از بیش ترقی عطا فرمائے۔

ابو الحسن علی حسنی ندوی

بقلم نور عظیم ندوی

۲۶؍ مارچ ۱۹۸۴؁ء

سید ابو الاعلی المودودی (مؤسس الجماعۃ الاسلامیۃ)

آج مجھے مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، اور اس مدرسے کی خوبصورتی، صفائی، حسن انتظام ہر چیز کو دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی۔ اس سے پہلے میری نگاہ میں جتنے عربی مدارس گزرے ہیں ان میں اس مدرسہ کو ایک ممتاز حیثیت کا مالک پایا۔ اللہ تعالی اسے اور زیادہ ترقی دے اور صوری  و معنوی ہر حیثیت سے یہ مرتبہ کمال کو پہنچے۔

خاکسار

ابو الاعلی

۲۳؍ اکتوبر ۴۳ء

 

ڈاکٹر ذاکر حسین (سابق صدر جمہوریہ ہند)

آج مدرسہ سلفیہ میں آنے کا اتفاق ہوا۔ مدرسہ کے حالات سن کر اور کچھ دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔ کام کی رفتار خدا کا شکر ہے، بہت اچھی ہے۔ خدا ترقی دے اور اراکین کی سعی کو مشکور فرمائے۔

ڈاکٹر ذاکر حسین

۶؍ مئی ۱۹۶۴؁ء

اخلاق الرحمان قدوائی (سابق گورنر بہار)

مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آج مجھے جامعہ سلفیہ میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ میں یہاں کے ٹیچرز اور طلبا کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کے اعلی تعلیمی معیار پر جو انہوں نے حاصل کیا ہے، مجھے خوشی ہے کہ اس درسگاہ کے طالب علم یہاں سے فارغ ہو کر جدید تعلیم کی درسگاہوں  میں بھی جاتے ہیں جہاں انہوں نے جدید علوم میں درخشاں کامیابی حاصل کی۔

میں سلفیہ انتظامیہ کمیٹی کو مبار ک باد دیتا ہوں کہ نہ صرف وہ اپنے اداروں کو کامیابی سے چلا رہے ہیں بلکہ وہ نئے ادارے بھی کھول رہے اور اس سلسلے میں انہوں نے طبیہ کالج قائم کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کالج بھی درخشاں کامیابی حاصل کرے گا۔

اخلاق الرحمن قدوائی

۲۵؍ فروری ۸۶ء

(قاری طیب صاحب (مہتمم دار العلوم دیوبند

نحمدہ ونصلی۔ آج بتاریخ ۷؍ اپریل ۵۲ء دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں حاضری کا شرف میسر ہوا اور دار العلوم کی وسیع اور ستھری عمارت میں ایک مختصر سے اجتماع سے میں شرکت کی نوبت بھی آئی۔ ذمہ داران دار العلوم کے وسیع اخلاق اور دار العلوم کے منتظم  کے کاموں نے  ہمارے دلوں پر گہرا اثر ڈالا۔ طلبہ کی تعداد تقریبا ایک سو ہے اور جو کتاب و سنت کی تعلیم و ترویج میں مصروف ہیں۔ فی زمانہ ضرورت ہے کہ تعلیمی اور اخلاقی اداروں کو زیادہ وسیع کیا جائے اور انہیں مسلمانوں کے ارتباط باہمی کا ذریعہ بنایا جائے اور بلا تفریق مسلک و مشرب ‘‘المؤمنون کجسد واحد’’ کا عملی ثبوت پیش کیا جائے۔ الحمد للہ کہ دار العلوم احمدیہ اپنی تعلیم وتربیت کے مقاصد کی تکمیل کے ساتھ ایک عظیم ترین مقصد کے بروئے کار لانے میں بھی ساعی نظر آرہی ہے جو تمام علمی اداروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ دعاء ہے کہ حق تعالی اس ادارے کو اس کے اعتدال کے ساتھ اسے ترقی عطا فرمائے۔ دار العلوم کے مجموعی احوال سے جو خوشی ہوئی اس کے اظہار کے لیے چند سطریں عرض کی گئی ہیں۔ و باللہ التوفیق

محمد قاری طیب

مہتمم دار العلوم دیوبند

۷؍ اپریل ۱۹۵۲ء

مولانا منت اللہ رحمانی (امیر شریعت بہار و اڑیسہ)

حامداً و مصلّیاً و مسلماً ۔ اما بعد دار العلوم احمدیہ سلفیہ قدیم اور کار گذار ادارہ ہے اور جس نے جناب مولینا ڈاکٹر عبد الحفیظ صاحب سلفی زید مجدہم کی سربراہی میں مختلف جہات سے ترقی کی ہے۔ حق تعالی کی بار گاہ میں دعا ہے کہ وہ اس زندہ اور متحرک ادارہ کو  مزید ترقیات سے نوازے اور موجودہ دور میں مسلمانوں کے لیے مفید سے مفید تر ثابت فرمائے۔ آمین!

منت اللہ رحمانی

امیر شریعت بہار و اڑیسہ

۲۶؍ مارچ ۸۴ء

 

مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال)

یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مذاکرہ علمیہ کے موقعہ سے دار العلوم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا جس کا موضوع ‘‘توحید اور ہماری زندگی پر اس کے اثرات’’ تھا۔ گرچہ اس سے قبل بھی با رہا زیارت کا موقع ملا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس علاقہ میں یہ ایک دینی قلعہ ہے۔ تعلیم دعوت الی اللہ اور صحیح عقیدہ کی ترویج و اشاعت اور جدید طبقہ کے درمیان دینی روح بیدار کرنے میں اس کی اہم خدمت رہی ہے اور یہ ادارہ اسلام اور مسلمانوں کی مختلف میدان میں خدمت کر رہا ہے اور اس کے ذمہ داران خصوصاً ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی جو اس ادارہ کے سکریٹری ہیں۔ ثقہ اور امین ہیں۔ اس ادارہ کے کچھ منصوبے ہیں جس کی تکمیل ضروری ہے۔

اس لئے میں اصحاب خیر اور ثروت سے اس ادارہ کی مدد کی درخواست کرتا ہوں تاکہ اس کے اعلی منصوبوں کی تکمیل ہو اور اللہ اس ادارہ کو مزید ترقی سے نوازے۔ آمین!

آپ کا بھائی

عبد الرؤف رحمانی

امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نیپال

۱۰؍ ۱۰؍ ۱۹۹۲

شکیل احمد خان (وزیر قانون بہار)

میں دار العلوم سلفیہ کے منتظمین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے محنت اور لگن سے ایک شاندار درس گاہ قائم کی ہے، جہاں بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ استاد حضرات بھی لگن سے اپنا کام کر رہے ہیں اور ایمانداری سے پڑھا رہے ہیں۔ طالب علم میں بھی ڈسپلین ہے اور پڑھنے کا اچھا ماحول ہے۔ لائبریری میں بھی نایاب کتابیں موجود ہیں۔ خدا اس ادارہ کو اور ترقی دے جس سے ملت کے بچوں میں تعلیم کی روشنی پھیلے اور سماج اور قوم کے لیے ایک بہتر خدمت انجام دینے میں کامیاب ہوں۔

شکیل احمد خان

حکومت بہار وزیر قانون

۱۲؍ اگست ۲۰۰۰؁ء

 

مولانا مختار حمد ندوی (جمعیت اہل حدیث ہند کے سابق امیر)

اللہ تعالی کے فضل اور اس کی توفیق سے دار العلوم احمدیہ سلفیہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، اور اس کے علمی، تربیتی، تعمیری اور طبی کاموں کا معائنہ کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہندوستان کے اندر ایک وسیع مضبوط علمی قلعہ ہے۔ جس سے علوم شرعیہ کے ماہر علماء فارغ ہوئے۔ اس ادارہ کے ذمہ داروں کو بھی میں بہتر طریقہ سے جانتا ہوں خصوصاً ڈاکٹر سید عبد الحفیظ صاحب اور ان کے صاحب زادوں کو، یہ تمام صاحب علم و فضل، صدق و امانت کے اعتبار سے معروف ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ ان لوگوں کو ہر کامیابی سے نوازے اور اس بات کی توفیق بخشے کہ دار العلوم کی ترقی میں مزید کوشاں رہیں۔ اس طرح ہند اور بیرون ہند کے اصحاب خیر امید کرتا ہوں کہ دار العلوم احمدیہ سلفیہ کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھائیں گے۔

وصلی اللہ علی نبی و آلہ وبارک وسلم

مختار احمد ندوی

امیر جمعیت اہل حدیث ہند

۱۰؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء